لالا[2]

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - روشن، چمکنے والا (لولو کے ساتھ استعمال ہوتا ہے)۔  اشعار آبرو کے رشکِ گہر ہوئے ہیں داغ اب سخن سیں اوس کی لو لو ہوا ہے لالا      ( ١٧١٨ء، دیوانِ آبرو، ٨ ) ١ - وہ ملازم جو مالک کے بچوں کی تربیت کرے۔ (جامع اللغات) ٢ - غلام، بندہ، شیدی۔  یقیں ہے ایسی ہی باتوں سے لالا خدا نے مونہہ کیا ہے تیرا کالا      ( ١٨١٤ء، غرائب رنگین، ١٠٦ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو زبان میں بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٧١٨ء کو "دیوانِ آبرو" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔